ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / شہریت ترمیمی قانون کی مخالفت سمیت جامعہ ملیہ اورعلی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلبا پر پولس بربریت کے خلاف ملک بھر میں تحریک تیز

شہریت ترمیمی قانون کی مخالفت سمیت جامعہ ملیہ اورعلی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلبا پر پولس بربریت کے خلاف ملک بھر میں تحریک تیز

Wed, 18 Dec 2019 04:17:13    S.O. News Service

نئی دہلی  17/ڈسمبر (ایس او نیوز/ایجنسی)شہریت ترمیمی قانون کی مخالفت اوراتوار کو جامعہ ملیہ اسلامیہ اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں طلبا پرہوئی  پولس کی کارروائی کے خلاف پورے ملک میں ناراضگی دیکھی جارہی ہے جس کے نتیجے میں دہلی سے لے کر کولکاتا تک، بی ایچ یو سے لے کر آئی آئی ٹی مدراس تک اور احمد آباد سے لے کر ممبئی تک پورے ملک  میں تحریک تیز ہو گئیہے۔  متنازعہ شہریت ترمیمی قانون کے خلاف  لوگ سڑکوں پر نکل آئے ہیں اور آئے  دن الگ الگ شہروں اور علاقوں میں  مظاہرے ہو رہے ہیں۔

منگل کو کرناٹک کےکئی شہروں میں بھی احتجاجی مظاہرے ہوئے بالخصوص بیلگام میں احتجاجی ریلی کے دوران بسوں پر پتھراو کی وارداتیں بھی پیش آئیں  جس سے حالات کشیدہ ہوگئے، البتہ بیجاپور، بلاری اور  اُڈپی سمیت ریاست کے  کئی علاقوں میں احتجاج پرامن رہے۔ اُدھر یادگیر ضلع کے شاہ پور میں پیر کو سخت احتجاج کیا گیا اور متعلقہ شہریت ترمیمی قانون کو واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا۔

یاد رہے کہ پیر کے روز جامعہ علاقے میں دیگر یونیورسٹیوں کے طلبا کے ساتھ ساتھ عام شہریوں نے بھی جامعہ ملیہ اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلبا کے حق میں آواز بلند کرنے کے ساتھ ساتھ سڑکوں پر نکل آئے اور شہریت ترمیمی قانون کے خلاف بھی سخت  نعرے بازی کی،  احتجاجی مظاہرہ کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کے پتلے بھی نذر آتش کیے گئے۔

قابل غور ہے کہ اتوار کو جامعہ ملیہ یونیورسٹی میں شروع ہوا احتجاجی مظاہرہ دیر رات دہلی پولس ہیڈکوارٹر پر جا کر ختم ہوا تھا اور طلبا کی اس تحریک کی وجہ سے حراست میں لیے گئے جامعہ ملیہ یونیورسٹی کے سبھی بچوں کو دیر رات بغیر کوئی کیس درج کیے چھوڑنا پڑا تھا۔  طلبا کی اس مہم میں جے این یو اور دہلی یونیورسٹی کے طلبا کے ساتھ ساتھ اساتذہ اور عام شہری بھی شامل ہوئے تھے۔ اس احتجاجی مظاہرے کی گونج سیاسی حلقوں میں اب بھی صاف سنائی دے رہی ہے۔ مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ نے کولکاتا میں عظیم الشان ریلی کی جس میں طلبا کے مظاہرے کا تذکرہ کیا اور ملک کی راجدھانی دہلی میں کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے انڈیا گیٹ پر سینکڑوں طلبا اور سماجی کارکنان کے ساتھ دھرنا دیا۔

خیال رہے کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کی وائس چانسلر نجمہ اختر نے پورے واقعہ کی جانچ اعلیٰ سطحی کمیٹی سے کرائے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔ پیر کے روز پریس کانفرنس میں انھوں نے کہا تھا کہ پولس کارروائی میں 200 سے زائد طلبا و طالبات زخمی ہوئے ہیں جسے کسی بھی حال میں برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ انھوں نے کہا تھا کہ پولس نے جس طرح کیمپس میں گھس کر توڑ پھوڑ کی اور طلبا کے ساتھ ساتھ اساتذہ پر بھی حملہ کیا، وہ قابل مذمت ہے


Share: